302

وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔۔!! عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد فردوس عاشق اعوان نے کیا کر دیا؟ کابینہ میں ہلچل

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) سابق معاون خصوصی فردوس عاشق نے خود پر لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کردیا، کہا ڈی نوٹیفائی کے نوٹیفکیشن میں ایسا کوئی نام نہاد الزام موجود نہیں جو ذرائع سے چل رہے ہیں، بعض اوقات آفیشل ردعمل کے بجائے مختلف ذرائع سے خبر چلی جاتی تھی۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام اعتراض ہے میں گفتگو میں سابق معاون خصوصی فردوس عاشق نے خود پر لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کردیا، کہا ڈی نوٹیفائی کے نوٹیفکیشن میں ایسا کوئی نام نہاد الزام موجود نہیں جو ذرائع سے چل رہے ہیں، بعض اوقات آفیشل ردعمل کے بجائے مختلف ذرائع سے خبر چلی جاتی تھی۔ جبکہ باضابطہ طور پر جوڈی نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے اس میں کہیں ان کا ذکر تک نہیں ہے۔فردوس عاشق نے کہا کہ بدقسمتی سے پی ٹی آئی میں کچھ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے بیوروکریسی کے ٹوائلٹ رول بن کر میڈیا کو من گھڑت، بے بنیاد، گھٹیا خبریں ریلیز کیں اور چلوائی بھی، اگر میں خاموشی سے ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیتی تو میں کرپٹ نہیں ہوتی، جب میں ڈٹ گئی اورپوچھا کہ آپ کی اتھارٹی کیا ہے،میرے تو لیڈر وزیراعظم ہیں میں ان کو سو دفعہ بھی استعفیٰ دے دوں گی،انہوں نے کہا آپ استعفیٰ نہیں دینگی تو ڈی نوٹیفائی کردوں گا، میں نے کہا کردیں۔سابق معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم میری کارکردگی سے مطمئن تھے، جو ذمہ داری دی گئی اس پر پورا اتری فرائض انجام دیئے،معلوم نہیں ایک سال میں کون کون وزیراعظم کے پاس شکاتیں لے کر گیا ہوگا، وزیراعظم کو میرے خلاف حقائق مسخ کرکے بتائے گئے،میری وزارت کی فائلیں مجھے دکھائے بغیر وزیراعظم ہاؤس جارہی تھیں، سیکریٹری چھ ماہ تک مجھے فائلز دکھائے بغیر وزیراعظم ہاؤس بھیجتی رہی، الزام لگایا گیا اشتہاری کوٹے سے دس فیصد کمیشن لینے کی کوشش کی، میرے دور میں کسی اشتہاری کمپنی کو کوئی ادائیگی نہیں کی گئی،ایک اور اشہتاری کمپنی سے متعلق بھی الزام لگایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ کابینہ اور تحریک انصاف میں بہت سے لوگ مجھے سپورٹ کرتے تھے۔ کابینہ میں کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ وزارت اطلاعات مزید بہترپرفارم کرے،وزارت اطلاعات میں تین ماہ سے چپقلش چل رہی تھی، وزارت اطلاعات میں کچھ ایسے لوگ تعینات کئے گئے جن کی ضرورت ہی نہیں تھی، بیوروکرسی میں چین آف کمانڈ نہیں ہوگی تو فرائض متاثر ہونگے، مختلف لوگوں سے کمانڈرز لی جائیں گی تو درست کام نہیں ہوسکے گا۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا آئین کے مطابق اختیار ہے وہ اپنی کابینہ منتخب کریں۔ وزیراعظم نے کہا آپ کام کریں جس دن ضرورت ہوگی آپ کو بلا لوں گا، وزیراعظم نے پی ٹی آئی ورکر کی رائے بھی دیکھنی ہے، شبلی فراز کی پارٹی سے متعلق بائیس سال کی جدوجہد ہے، میں پی ٹی آئی کا ویسا فیس نہیں جیسے شبلی فراز کا ہے۔امید ہے نئی ٹیم وزیراعظم کی توقعات پر پورا اترے گی۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں