265

دیور سے پردہ کرنے پر عورت کو خاوند مارے تو عورت کیا کر ے؟ کیا دیور سے عورت چِپک چِپک کے مل سکتی ہے؟

آج ہماری ایک بہن نے سوال کیا وہ کہتی ہیں کہ خاوند چاہتا ہے کہ میں اس کے بھائیوں سے چہرے کا پردہ نہ کروں ورنہ وہ مجھے ط ل ا ق دے دے گا مجھے کیا کر نا چاہیے؟ چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جانب میری بہن اس سوال کا جواب یہ ہے کہ خاوند کا بیوی کو غیر مردوں کے سامنے بے پردہ کر نا نا جا ئز ہے خاوند کو اپنے گھر میں اتنا کمزور نہیں ہو نا چاہیے کہ اس کی بیوی اس کے بھا ئیوں اور چچاؤں وغیرہ غیر محرم رشتہ داروں کے ساتھ اپنا چہرہ ننگا کرنے پر مجبور ہو اگر خاوند اسے پابند کر تا ہے

تو بیوی پر اس کیا اطاعت واجب نہیں اطا عت نیکی کے کاموں میں عورت پر پردہ کر نا ضروری ہے چاہے مرد اس کی پاداش میں اسے ط ل ا ق ہی کیوں نہ دے دے اگر وہ ایسا کر گزرے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہتر انتظام فر ما دے گا ارشادِ باری تعالیٰ اگر وہ الگ الگ ہو جا ئیں تو اللہ پاک ہر ایک کو اپنی وسعت سے غنی فر ما دے گا نبی پاک ﷺ نے فر ما یا جو آدمی اللہ پاک کی رضا کے لیے کوئی چیز چھوڑ دے تو اللہ پاک اسے اس سے بہتر معاوضہ دے گا اگر عورت پردہ کر تی ہو اور عفت و عظمت کے اسباب اپنانہ چاہتی ہو تو خاوند کو اسے ط ل ا ق کی دھمکی نہیں دینی چاہیے

اللہ پاک ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فر ما ئے اور اس کے مطا بق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے۔ آپ کے چچازاد بھائی اگر آپ کی بیوی کے محارم میں سے نہیں ہیں تو آپ کی بیوی کے لیے ان سے ہاتھ ملانا جائز نہیں ہے، نامحرم سے ہاتھ ملانا سخت گناہ ہے، حدیثِ پاک میں اس پر وعید آئی ہے، شریعت کی اتباع اور شرعی احکامات کی تابع داری میں مخلوق کی رضامندی و ناراضی کا لحاظ نہیں رکھنا چاہیے، شرعی حکم کی اتباع لازم ہے اور اگر اس کی وجہ سے کوئی ناراض ہوتاہے تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے،

البتہ ایسے لوگوں کو نرمی اور حکمت کے ساتھ شریعت کے احکامات سے آگاہ کرنا چاہیے۔طبرانی میں بروایت حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان منقول ہے:اپنے سر کو لوہے کے کنگھے سے زخمی کرنا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ نا محرم خاتون کو چھوئے۔ البتہ مشترکہ خاندانی نظام میں عورت کے لیے پردے کی صورت یہ ہے کہ کوئی بڑی چادر جس سے پورا جسم ڈھکا ہوا ہو اوڑھ کر گھر کے کام کاج کرلے۔ بلا ضرورت دیور سے بات چیت نہ کی جائے۔ اگر کبھی کوئی ضروری بات یا کام ہو تو آواز میں لچک پیدا کیے بغیر پردہ میں رہ کر ضرورت کی حد تک بات کی جائے۔ خلوت میں یا پاس بیٹھنے کی یا ہنسی مذاق کرنے کی شرعاً اجازت نہیں۔ نیزکبھی سارے گھر والے اکٹھے کھانے پر یا ویسے بھی بیٹھے ہوں تو خواتین کو چاہیے کہ ایک طرف اور مرد ایک طرف رہیں تاکہ اختلاط نہ ہو۔

Sharing is Caring

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں