316

انسانیت کے مسیحا گہری تشویش میں مبتلا۔۔!! پاکستان کے اہم صوبے کے ڈاکٹرز نے کرونا سے گھبرا کر بڑا مطالبہ کر دیا؟ جان کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے

کوئٹہ (ویب ڈیسک) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بلوچستان میں کروناوائرس کی مقامی سطح پرمنتقلی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے کوئٹہ میں کرفیولگانے کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سول ہسپتال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر یاسر کا کہنا تھا
کہ صوبے میں لاک ڈاون میں نرمی کے باعث کیسز میں اضافہ ہورہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 31ڈاکٹرز اور متعدد اہلکار کروناوائرس کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں ،بلوچستان میں صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابرہیں ۔،انہوں نے کہا کہ کروناوائرس سے نمٹنے کےلئے حکومت کو سخت فیصلے کرنے ہونگے صوبے میں مکمل لاک ڈاون کی اشد ضرورت ہے ،تاہم شہری لاک ڈاون پر بالکل عملدرآمد نہیں کررہے ہیں صوبائی حکومت کو کرفیو کے نفاز کے آپشن پر غورکرنا چاہئے ،اور صوبے میں 15دنوں کےلئے کرفیونافذ کیا جائے ،لاک ڈاون میں نرمی سے چار دنوں میں کیسز میں اضافہ ہوگیاہے۔ڈاکٹر یاسر نے کہا کہ صوبے میں ٹیسٹنگ سروس انتہائی ناکافی ہے،ٹیسٹنگ سروس کم ہونے کی وجہ سے تشخیص کا عمل سست روی کا شکار ہے،اس وقت 31ڈاکٹرز، پانچ پیرامیڈیکل اسٹاف سمیت دیگر عملہ کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں،خوف اور عدم سہولیات کے باعث صوبے کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی شروع ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صحت کے شعبے کی صورتحال ناگفتہ بے ہے،انہوں نے کہا وینٹیلیٹرز تک آکسیجن کی رسائی نہیں، شیخ زید ہسپتال میں آکسیجن پلانٹ خراب ہے، وینٹیلیٹرز کو آکسیجن سلینڈر کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں