281

کورونا وائرس: کیا اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ وائرس لیبارٹری سے خارج ہوا؟

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سفارتی مراسلے کے مطابق چین میں امریکہ سفارتخانے کے اہلکار چین کے شہر ووہان میں ایک لیب میں اختیار کی جانے والی بائیو سکیورٹی سے متعلق پریشان تھے۔

یہ لیبارٹری اس شہر میں واقع ہے جہاں سب سے پہلے کورونا وائرس کی وبا پھوٹی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت اب ایسی غیر مصدقہ اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے کہ یہ وائرس ایک لیبارٹری سے نکل کر دنیا میں پھیلا۔

موجودہ کورونا وائرس کی وبا کے پھوٹنے سے متعلق اس دعوے کا کیا مطلب بنتا ہے؟

سفارتی مراسلے میں کیا ہے؟
واشنگٹن پوسٹ نے ذرائع سے یہ سفارتی مراسلے حاصل کرنے کے بعد شائع کردیے۔

ان مراسلوں کے مطابق سنہ 2018 میں امریکی سائنسی سفارتکار متعدد بار معائنے کے لیے چین کی ریسرچ لیبارٹری بھیجے گئے۔

ان سائنسی ماہرین نے امریکہ کو دو مرتبہ خبردار کیا کہ لیبارٹری میں خاطر خواہ حفاظتی انتظامات موجود نہیں ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق چین میں یہ امریکی سائنسی سفارتکار ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائیرولوجی (ڈبلیو آئی وی) میں حفاظتی اور انتظامی کمزوریوں کو دیکھ کر پریشان ہو گئے اور انھوں نے مزید مدد کی درخواست کی۔

خبر کے مطابق یہ سفارتکار پریشان تھے کہ اس چینی لیبارٹری میں چمگادڑوں سے پھیلنے والے وائرس پر تحقیق کسی سارس جیسی وبا کا خطرہ بن سکتی ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق سفارتی مراسلوں کے بعد امریکی حکومت کے اندر یہ بحث زور پکڑ گئی کہ آیا ووہان کی یہ لیبارٹری یا چین کی کوئی اور لیبارٹری اس وبا کی وجہ بنی ہے۔

Source :bbc news

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں