103

عمران خان کی 10 سال قبل کی جانے والی پیش گوئی درست ثابت ہو گئی ۔۔ انہوں نے کیا کہا تھا جو سچ ثابت ہوا؟‌ جانیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے دو اعلان کیا ہے کہ نوازشریف کی وطن واپسی کے لیے اگر برطانیہ جانا پڑا تو جاؤں گا اور اس معاملے پر بورس جانسن سے خود بات کروں گا۔اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹر کو وزیراعظم عمران خان نے خصوصی انٹرویو دیا۔ نوازشریف کی وطن واپس سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’نوازشریف کی واپسی کیلئے برطانیہ جانا پڑا تو خودجاؤں گا، اگر ضرورت پڑی تو برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے خود بات کروں گا،

انہوں نے ملک کے ساتھ جوبھی کیا بدقسمتی سے عدلیہ نے ہمیشہ اُن کا ساتھ دیا‘۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ’لاہورہائی کورٹ سے سفارش کی تھی کہ وہ 7 ارب روپے کاضمانتی بانڈ مانگیں، عدلیہ نےہماری بات نہیں مانی اور شہبازشریف کی گارنٹی پر باہر جانے دیا، بدقسمتی سے پاکستان میں لوگ اقتدار میں صرف جائیدادیں بنانے آتے ہیں، میں سمجھتا ہوں وفاداری اقتدار کیلئے نہیں منشورکیلئےہونی چاہیے‘۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن مجھے بلیک میل کرنےکی کوشش کررہی ہے‘۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اسحاق ڈار کو اُس وقت کے وزیراعظم نے پاکستان سے باہر بھگایا، شہبازشریف کا ایک بیٹا فرار ہوا جبکہ نوازشریف کے دو بیٹے بھی مفرور ہیں، جب ان سے پوچھو کہ بیٹےکیوں بھاگےتو کہتےہیں برطانوی شہری ہیں، نوازشریف کے بیٹے اربوں روپےکی جائیدادوں کےمالک ہیں‘۔ اپوزیشن رہنماؤں کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’میں ان سب کو جانتاہوں یہ کیا سے کیا بن گئے، ان کاون پوائنٹ ایجنڈا ہےکہ عمران خان پر ایسا دباؤ ڈالا جائے کہ یہ ہماری جان چھوڑ دے،

میں نے دس سال قبل ہی پیش گوئی کی تھی کہ یہ سب اکٹھے ہوجائیں گے، وزیراعظم بننے کے بعد قوم سے پہلے خطاب کرتے ہوئے بھی ان کے اتحاد کی بات کی تھی‘۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہماری کوشش ہے ایسا ملک بنائیں جو قرض لینے کے بجائے غریب ممالک کو مدد فراہم کرے، کوشش کررہےہیں پناہ گاہیں بنائیں تاکہ مزدوروں کو فراہم کی جاسکے اور مزدو رہائش کی رقم بچا کر اہل خانہ کو بھیج دیں، ہم غریبوں کیلئے ہیلتھ کارڈ سہولت لائے تاکہ شہریوں کا مفت علاج ہوسکے‘۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ کے تمام شہریوں میں ہلیتھ کارڈ تقسیم کیے گئے، ہماری کوشش ہے کہ پنجاب کے سفید پوش طبقے کو بھی ہیلتھ کارڈ پہنچائے جائیں، حکومت پاکستانی تاریخ میں پہلی بار غریبوں اور تنخواہ دار طبقے کے لیے گھر بنا رہی ہے،

ایک لاکھ گھر کے منصوبے میں شامل ہر گھر پر حکومت تین لاکھ روپے سبسڈی دے گی، بینکوں کو پابندکریں گےکہ 5 فیصد شرح سود پر شہریوں کو گھروں کےلیے قرض دیں، اگر شرح سود میں بہت زیادہ اضافہ بھی ہوا تو ہم 7 فیصد پر قرض دیں گے اور اگر شرح سود کم ہوگئی تو قرض پر بھی کم کردیں گے‘۔عمران خان نے بتایا کہ ’بھارت میں گھروں کیلئے قرض10 فیصد شرح سود پر دیا جاتا ہے، ایسے ہی امریکا اور یورپ میں بھی گھروں کیلئے قرض دیاجاتا ہے‘۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں