73

بریکنگ نیوز: یہ تو حالات ہیں۔!!

ظفر آباد (ویب ڈیسک) آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا کے بیٹے کو میرپور پولیس نے خاتون ڈاکٹر کو مظفر آباد میں دو سال سے تنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ متاثرہ خاتون کے والد کی شکایت پر آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکشن میں بی ایس 17 کے ایڈہاک ملازم ارسلان ضیا کو نصف شب کے وقت گرفتار کیا گیا۔ پولیس کو درج شکایت کے مطابق متاثرہ خاتون مظفر آباد میں 2014 سے 2019 کے دوران میڈیسن کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں اور وہ ایک ہاسٹل میں رہائش پذیر تھیں جو ملزم کے والد کی ملکیت تھی اور وزیر اعظم ہاؤس کے قریب ایک واٹر چینل کے راستے پر تعمیر کیا گیا تھا۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ دسمبر 2018 میں ان کی بیٹی نے دیکھا کہ ملزم چھپ کر ہاسٹل کی چھت سے خواتین طالبات کی تصاویر کھینچتا تھا۔ شکایت کنندہ کے مطابق وہ ہاسٹلز کی دیکھ بھال کے بہانے سے آتا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ عرصے کے بعد میری بیٹی کو مشتبہ شخص کی طرف سے مختلف نمبروں سے کال اور میسجز آنے لگے اور تعلقات قائم کرنے پر زور دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انکار پر ملزم نے اپنے والد کا نام لے کر دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ شکایت کنندہ نے بتایا کہ ملزم سرکاری گاڑیوں میں مظفر آباد کے تدریسی ہسپتال بھی آتا تھا اور اپنے ساتھ بیٹھنے پر مجبور کرتا تھا۔ متاثرہ خاتون کے والد نے شکایت میں کہا کہ ملزم ارسلان ضیا نے مظفر آباد اور راولپنڈی میں سرکاری گاڑی کا استعمال کرتے ہوئے دو مرتبہ ہاتھ لگایا لیکن بیٹی کی جانب سے شدید چیخ و پکار کے باعث ملزم ناکام رہا۔ شکایت کنندہ کا مزید کہنا تھا کہ ان کی بیٹی نے اپریل 2020 میں اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کی اور میرپور میں ہاؤس جاب کا آغاز کیا لیکن ملزم اسے مسلسل تنگ کرتا رہا۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں