273

کتنی حقیقت ، کتنا ڈرامہ ۔۔۔؟ موٹروے کیس کہاں گیا ؟ وزیراعظم عمران خان نے اس دلخراش واقعہ پر کوئی سخت ترین ایکشن کیوں نہیں لیا ؟ تبدیلی کی دال میں کتنا کالا ہے ؟ حیران کن حقائق

لاہور (گمنام صحافی ) لاہور سے براستہ موٹروے گوجرانوالہ جانیوالی خاتون کے ساتھ رات کے اندھیرے میں ہونے والے ظلم کو لگ بھگ ۔۔۔۔ روز گزر گئے ؟ مرکزی ملزم عابد تاحال گم یعنی فرار ہے ؟ ظلم کا شکار خاتون کا نام بھی منظر عام پر نہیں آیا ۔ وہ کون ہے

کس خاندان سے تعلق رکھتی ہے ؟ کسی کو کچھ نہیں معلوم ؟ حیران کن امر یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں بہت کم ایسے کیسز ہوئے ہیں جن میں متاثرہ خاتون کی پردہ داری کی گئی ۔ بس فرانس کا ذکر ہوا لاہور اور گوجرانوالہ کا یا موٹروے کا ۔۔۔ عام لوگ اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے ۔۔۔ یقیناً عوام کو یہ سب جاننے کی ضرورت بھی نہیں ، لیکن عام شہریوں کو یہ جاننے کا حق تو ہے کہ بچوں کے سامنے خاتون کے ساتھ ہونے والے ظلم پر حکومت خاموش ، بے بس اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے کیوں بیٹھی ہے ؟ ایک عام سا گلی محلے کا اوباش آزاد کیوں ؟ اسے پکڑا کیوں نہیں جا سکا ۔ اور وہ پولیس والوں کے آگے پیچھے پھرتے ہوئے انہیں چکما دے کر کیسے نکل جاتا ہے ؟ ہماری پولیس کے مشہور زمانہ ۔ منٹوں میں کیسز کو حل کردینے والے افسران ، شیر جوان کمانڈوز اور محکمہ پولیس کے مخبر کہاں جا سوئے ہیں ۔سارا ماجرا دیکھ کر پوری قوم حیران پریشان ہے کہ تبدیلی سرکار آخر کس سمت میں اور کن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔۔یہ افسوسناک واقعہ ہونے کے بعد جو انکشافات ہوئے اور انہیں جھٹلایا گیا انہیں بھی ذرا ذہن میں لائیے ۔۔۔۔ کہا گیا کہ مجرم عابد کا تعلق پاکستان تحریک انصاف کے کسی مشہور رہنما کے ساتھ ہے اور وہ اسکا پالتو ہونے کی وجہ سے آزاد ہے یعنی محکمہ پولیس کا مجرم عابد کو دیکھنے کے باوجود بلی کی طرح آنکھیں بند کر لینے اور چشم پوشی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ۔ دبے الفاظ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ سانحہ موٹروے کا ڈرامہ حکومت نے اپنی ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے رچایا ۔۔۔ایک افواہ یہ بھی پھیلائی گئی کہ فرانس کی خاتون اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کے موجود ہونے کا بڑا تعلق ہے ۔۔۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں