279

میری وہ چیز بیچ کر تم اپنی ضرورت پوری کر لو ،میاں بیوں کی آزدواجی زندگی پر مبنی ناقابل یقین واقعہ

لاہور(ویب ڈیسک) بیوی – کوئی جاب ملی آپ کو؟شوہر – جاب نہیں ملی، مل جاتی تو رمضان میں بچوں کے لباس کا انتظام ہو جاتا، اس وقت بھی تم اپنی ماں کے یہاں سے لے آنا کپڑے …بیوی – شادی کے بعد سے یہ پانچویں عید ہے اور ہر مرتبہ رمضان عید میں کپڑے میرے والدین کے
گھر سے ہی آتے ہیں شوہر – تو کیا ہوا اس بار بھی لے آنا بیوی – آپ کو معلوم ہے نہ پاپا ریٹائر ہو گئے اور امی کی بیماری بھی، بہت مشکل سے گھر چلا رہے ہیںشوہر – تمہارا بھائی توبہت رئیس آدمی ہے ان سے کہو نابیوی – میرا بھائی یقینا پیسوں سے بہت رئیس ہے، لیکن دل سے بہت غریب ہے، اور میرا بھائی جورو کے غلام ہے اس میں ذرا سی بھی غیرت ہوتی تو آج میرے امی بابا کو اس حال میں چھوڑ کے بیوی کے ساتھ مختلف نہیں رهتےہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے، میں گرسنہ مر جاوشوہر – حق بات کہی جو انسان اپنے ماں باپ کا نہیں ہو سکا وہ کسی اور کا کیا ہو جائے گا ..بیوی – یہ کوئی ضروری نہیں ہے کی عید منانے کے لئے نئے کپڑے ہی لئے جائیں؟پرانے کپڑے میں بھی عید ہو سکتی هےشوہر – میرے معصوم بچوں کے روزہ نماز اور تلاوت ہو رہی هےوہ کتنے خوش ہو رہےہیں کے عید پہ ہمیں نئے کپڑے ملیں گےمیرا دل نہیں مانتا ان پرانے کپڑے پہنانے کے لیے، جانے دو میں میرا موبائل فروخت کردیتا ہوں اور بچوں کے کپڑے اتارو نئے خرید لیتے ہیں جب جاب لگ جائے گی تو نیا موبائل لیں گےبیوی – ایک بات کہوں ..؟آپ اپنے چھوٹے بھائی سے کچھ پیسے مانگ لوشوہر – وہ نہیں دے گا الٹا اپنی بیوی کے سامنے چار باتیں سنا کر ذلیل اور رسوا کر دے گا بے وجہ عزت چلی جائے گی دونوں میاں بیوی روزے سے تھے، دونوں نے ایک دوسرے کی طرف بے بسی سے دیکھا اور آنکھوں میں آنسو جاری ہو گئے. یہ ہم مسلمانوں کے 100 میں سے 40 گھروں کی یہی کہانی ہے، غیرت کے مارے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے .. رمضان کے مہینے میں صرف فقیروں کو ہی مت دو، بلکہ ان کو دو جو شرم اور خود داري کی وجہ سے آپ سے مانگ نہیں سکتے ہیں ..جیسے ہمارے پڑوسی، رشتہ دار یا پھر ہمارے خود کے بھائی بہن جو غریب ہے یا اقتصادی طور پر کمزور ہے آپ اپنوں کا حق ہے آپ کے اوپر …یہ رمضان میں ایسا کر جاؤ کہ اللہ رسول کو راضی کر لو ان کی مخلوق کو خوش کرو ….

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں