313

وہ وقت جب ہوس کے مارے قوم لوط کے کچھ افراد خوبرو نظر آنے والے حضرت جبرائیل پر نیت خراب کر بیٹھے ۔۔۔ پھر کیا واقعات پیش آئے ؟ جانیے

آپ سب نے قوم لوط علیہ السلام کے بارے میں تو پڑھ رکھا ہوگا ؟ مختصراً بتاتا چلوں کہ قوم لوط ہم جنس پرستی جیسی عادت بد میں مبتلا تھی . اک بار جب حضرت جبرائیل علیہ السلام دیگر فرشتوں کیساتھ انسانی شکل میں حضرت لوط علیہ السلام سے ملاقات کرنے کیلئے آئے تو قوم لوط میں خبر پھیل گئی کہ حضرت لوط علیہ السلام کے گھر باہر سے بہت خوبصورت مہمان آئے ہیں لہذا یہ قوم دیوانہ وار حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کیجانب لپکی اور اس کا گھیراؤ کرلیا جس پہ حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کیلئے بہت پریشان ہوئے جس پہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے انہیں تسلی دی اور بتایا کہ ہم انسان نہیں جو یہ ہمیں دبوچ لیں گے . یہ کہ کر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے انہیں بمع اہل و عیال صبح ہونے سے پہلے علاقے سے نکل جانے کا کہا اور صبح ہوتے ہی چار بڑے شہروں پہ مشتمل اس علاقے کو اٹھا کر الٹا پٹخ دیا اور پھر اس پہ اللہ کے حکم سے بھاری پتھر برسے اور یوں یہ قوم تباہ و برباد ہوگئی (بحوالہ قرآن )یہاں تک تو شاید سب ہی کو معلوم ہو . پر کیا آپکو معلوم ہے کہ اس بستی کے باسی عادت بد میں مبتلا کیسے ہوئے ؟ یہ بستی دراصل بہت سرسبز و شاداب تھی . اناج پھل اور ہر طرح سے خوراک کی فراوانی تھی لہذا یہاں مہمان کثرت سے آیا کرتے . باہر سے آئے لوگ بعض اوقات امن و امان کیلئے خطرہ بن جاتے لہذا اس بستی کے رہائشی مہمانوں سے سخت تنگ تھے اور یہی سوچتے رہتے کہ کس طرح ان مہمانوں سے جان چھڑائی جائے لہذا اک روز ایسیظہی محفل جاری تھی کہ وہاں ابلیس لعین انسانی روپ میں شامل ہوا اور مشورہ دیا کہ اگر مہمانوں کیساتھ بدفعلی کرنا شروع کردیا جائے تو ڈر کے مارے کوئی یہاں نہیں آئے گا اور پھر تحربے کیلئے بدبخت نے خود کو پیش کیا . اس کا آئیڈیا پسند کیا گیا اور یوں بطور سزا اس بدفعلی کا آغاز ہوا اور پھر یہ عمل جو بطور سزا شروع کیا گیا تھا انکی قوم میں سرطان کی طرح پھیل گیا اور اب یہ اک دوسرے کیساتھ ذہنی تشنگی کیلئے یہ عمل کرنے لگے .تو جناب اسی لئے دنیا میں دین اسلام اپنی ابتداء یعنی بابا آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک جب جس روپ میں آیا اس نے “حدود” پہ کام کیا جہاں کسی بہتر عمل کے نہ کرنے پہ یاددہانی کروائی وہیں غلو ( ناجائز بڑھاوے) پہ سختی سے ٹوکا حتیٰ کہ نماز میں دو کے بجائے محبت میں تیسرا سجدہ کرنے پہ نماز ہی ناقابل قبول قرار دی ٹھیک اسی طرح حالت جنگ میں بھی دشمن کے حقوق بنائے کہ اسکی عورتوں بوڑھوں بچوں اور جانور کھیت کو حالت غصہ میں بھی نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا .پر ہم آج کیا کر رہے ہیں ؟ اسلام ہمیں ریاست کے ماتحت قانون کو ماننے کا کہتا ہے تو اس میں بہت بڑی حکمت ہے . اگر ہم ریاستی قانون کو مکال کر اپنے ذاتی عمل کا جائزہ لیں تو ہم سزاؤں میں ذہنی طور پہ اتنے متشدد ہوچکے کہ ہر جرم کی سزا “چوک پہ ٹانگ دو” بنا رکھی ہے . ڈکیت پکڑے تو زندہ جلا دو . چور پکڑے تو اسے اتنا پیٹا کہ تھانے پہنچنے سے قبل ہی وہ مارا گیا . یہی کام ہم نے مذہب کے نام پہ کیا . اگر کسی پہ مذہب مخالف الزام لگا تو بنا تحقیق ہم نے اسے مجرم مان لیا . کبھی ڈنڈے لیکر خودساختہ ٹھیکے دار بنے ریاست کے مامے بننے کی کوشش کرنے لگے نتیجاً قوم کو کشت و خون بطور تحفہ دیا . اسلام ہمیں “میانہ روی” کا درس دیتا ہے اور جب اسلام کسی بات کا درس دے تو وہ محض اک عمل کیلئے نہیں بلکہ ساری زندگی پہ لاگو ہوتا ہے کھانے پینے, محبت نفرت ,سزا جزا ہر وہ عمل جس میں میانہ روی نہیں وہ شر میں بدلتا ہے کہ یہی قانون قدرت ہے جس میں رتی بھر ردوبدل ممکن نہیں . کچھ عرصہ قبل دو راتیں تھانے میں گزارنا پڑیں . اک شام ہیڈ محرر کیساتھ بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ اسے ایس ایچ او کا فون آیا جسے سن کر اس نے اے ایس آئی سے کہا کہ صاحب کہ رہے ہیں جا کر تین چار کرائے دار پکڑو اور ایف آئی آر کاٹو ایس پی صاحب کا حکم ہے .جب اس بابت استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ ہر ہفتے یا مہینے انہیں اس طرح کی ایف آئی آروں کا کوٹہ پورا کرنا ہوتا ہے . خیر کچھ گھنٹوں بعد تین چار کرائے دار بمع مالک مکان سلاخوں کے پیچھے موجود تھے . دو مالک مکانوں کو شخصی ضمانت پہ چھوڑ دیا گیا جبکہ باقیوں کو پولیس اہلکار تسلی دے رہے تھے کہ صبح پانچ ہزار میں ضمانت ہوجانی فکر نہ کرو . تو جناب یہ تو حال ہے اس کرایہ نامہ ایکٹ نامی قانون کا .

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں