259

فوڈ پانڈا کا بائیکاٹ کردیا گیا ۔۔۔ وجہ کیا بنی ؟ صارفین کے لیے تشویشناک خبر

کراچی (ویب ڈیسک) آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن (اے پی آر اے) نے عارضی طور پر فوڈ پانڈا کے ‘غیر اخلاقی طریقوں’ کے باعث موبائل فوڈ ڈیلیوری سروس کے ساتھ اپنی خدمات کو عارضی طور پر معطل کردیا۔اس بائیکاٹ میں 200 کے قریب ریسٹورنٹس شامل ہیں اور یہ 15 ستمبر سے اب تک جاری ہے۔ اے پی آر اے نے یہ بائیکاٹ ڈیلیوری سروس کی جانب آن لائن کمیشن 18 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کرنے کے مطالبے کے جواب میں کیا۔فوڈ پانڈا کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) محمد نعیم صدیقی کو ارسال کیے گئے شکایتی خط میں چیئرمین اے پی آر اے نے اراکین کے تحفظات سے آگاہ کیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ فوڈ پانڈا کی جانب سے کمیشن بڑھانے کے لیے بارہا دباؤ ڈالا جارہا ہے جبکہ معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے اور اہم مطالبات کیے جارہے ہیں۔خط میں کہا گیا کہ اگر یہ غیر منصفانہ طریقے جاری رہے تو اے پی آر اے مستقل بنیادوں پر فوڈ پانڈا کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دے گا۔بیان میں کہا گیا کہ ہمیں اپنے اراکین کی جانب سے آپ کی ٹیم کی جانب سے دباؤ ڈالنے کے رویے اور غیر منصفانہ کاروباری طریقوں سے متعلق بڑے پیمانے پر شکایات موصول ہوئی ہیں جس نے آپ کی تنظیم کے حوالے سے سنجیدہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔اے پی آر اے کے مطابق ان کے اکثر اراکین پر کمیشنز بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا تھا جبکہ انڈسٹری پہلے ہی مشکل سے چل رہی ہے اور ایسی خدمات کے لیے 25 سے 35 فیصد کمیشن ادا کرنا ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے آنے والوں کے لیے تو اتنا کمیشن ادا کرنا زیادہ مشکل ہے اور یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ فوڈ پانڈا ایک حد تک کمیشن وصول کرسکتا ہے۔مزید کہا گیا کہ منیجرز، اے پی آر اے کے اراکین کو مختلف طریقوں سے بلیک میل کرتے ہیں کہ کمیشن 18 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کیا جائے، انہیں دھمکایا جاتا ہے اور پورٹل سے ان ریسٹورنٹس کے برانڈز ہٹادیے جاتے ہیں۔اے پی آر اے کے مطابق یہ انتہائی غیر اخلاقی طریقہ ہے کہ کسی رکن کو فوڈ پانڈا کے شرائط و ضوابط قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے اور اس کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ہی اے پی آر اے کے اراکین نے یہ شکایت بھی کی کہ فوڈ پانڈا انہیں ایسے ریسٹورنٹس کے ساتھ کام کرنے کا کہتا ہے جو مسابقتی کاروباری طرز عمل کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں اور انہیں مسابقتی کمیشن پاکستان میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔مزید کہا گیا کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران ریسٹورنٹ انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اب یہ وقت ہے کہ انہیں اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے زیادہ سے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں