281

یہ تو حال ہے امت مسلمہ کا : اسرائیل کو تسلیم کرنے والے اسلامی ممالک کی لائن لگ گئی ، جلد کیا بڑا کام ہونیوالا ہے ؟ پول کھول دینے والی خبر آگئی

انقرہ(ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر وائٹ ہاؤس جیرڈ کشنر نے متحدہ عرب امارات کے بعد ایک اور عرب ملک کے اسرائیل سے تعلقات قائم ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ جیرڈ کشنر نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل اور امارات کے درمیان برف پگھلی ہے، مزید ممالک بھی ایسا کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قوی امکان ہے 3 ماہ میں ایک اور عرب ملک اسرائیل سے تعلقات قائم کر لے، یقین ہے دیگر ممالک بھی اسی قطار میں ہیں۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست سے تعلقات قائم کرنے والا اگلا ملک بحرین ہو گا۔ امریکا کے مشیر برائے قومی سلامتی رابرٹ اوبرائن کا اس حوالے سے کہنا ہے حیران کن نہیں ہو گا، اگر اس معاملے پر صدر ٹرمپ کو نوبل امن ایوارڈ دیا جائے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے حریف ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کی یہودی آبادکاری کی مخالفت اب بھی کرتا ہوں اور صدر بننے پر بھی کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی میں مزید استحکام کے لیے معاہدہ تاریخی اقدام ہے۔ اسرائیل سے امن معاہدے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے پر ایران کے بعد ترکی کے صدر نے بھی متحدہ عرب امارات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔ اس حوالے سے ترکی کے صدر طیب اردگان نے متحدہ عرب امارات پر سخت الفاظ میں تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ تاریخ اور خطے کے لوگ اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر متحدہ عرب امارات کے دوہرے معیار کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔ امارات نے فلسطینی عوام کے امنگوں پر اپنے مفادات کو ترجیح دی۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کوئی بھی پیشرفت فلسطینی عوام کے بغیر قابل قبول نہیں ہوگی۔ متحدہ عرب امارات نے فلسطینی عوام کے جذبات کو مجروح کیا۔ ترکی نے بھی اسرائیل سے معاہدے پر متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات معطل کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان کا بیان میں کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے وزیر خارجہ کو امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرنے یا اپنے سفیر کو واپس بلانے پر مشاورت کا کہا ہے، ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ ترک وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ یو اے ای کو فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے یا ‘فلسطین کے لیے اہم معاملات پر مراعات دینے’ کا کوئی اختیار نہیں۔ وہیں الجزیرہ نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ترکی کی جانب سے کہا گیا کہ تاریخ اور خطے کے لوگوں کا ضمیر ‘اسے نہیں بھولے گا اور متحدہ عرب امارات کے اس رویے’ کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں