281

آیا صوفیہ، ارطغرل ڈرامہ : ترک صدر طیب اردوغان کی اسلامی قوم پرستی کا ہدف کیا ہے؟ پوری دنیا کا نقشہ بدل ڈالنے کی کیا پلاننگ ہو رہی ہے؟ جانیے

انقرہ (ؤیب ڈیسک) ترکی کے شہر استنبول کے جس میوزیم، آیا صوفیہ، کو حال ہی میں ملک کے صدر نے مسجد میں تبدیل کر دیا ہے اس کے عین سامنے سنہ 1818 میں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ بن سعود کا سر قلم کیا گیا تھا۔سلطنت عثمانیہ کے فوجی شاہ عبداللہ بن سعود اور وہابی امام کو ایک زنجیر میں جکڑ کر استنبول لائے تھے۔

جب عبداللہ کا سر قلم کیا جا رہا تھا تو ایک بڑا ہجوم آیا صوفیہ کے باہر جشن منا رہا تھا۔ آیا صوفیہ کے باہر عبداللہ کی سربریدہ لاش کو تین دن تک رکھا گیا تھا۔اس دوران سلطنتِ عثمانیہ کے فوجیوں نے اس وقت کے سعودی دارالحکومت دیریہ اور ریاض کے مضافات میں حملہ کیا تھا۔سنہ 1924 میں عثمانیہ سلطنت سمٹ کر جدید ترکی تک رہ گئی تھی اور جدید ترکی عثمانیہ سلطنت کو اپنی شاندار تاریخ سمجھتا ہے۔سعودی عرب ترکی کے ساتھ اپنی یہ ہولناک تاریخ کو شاید ہی بھولے گا۔ جے این یو میں مشرق وسطی کے امور کے پروفیسر اے کے پاشا کا کہنا ہے کہ جب سعودی عرب اپنی تاریخ پر نگاہ ڈالتا ہے تو اسے سلطنت عثمانیہ کا دور سب سے پہلے یاد آتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’عثمانی ہمیشہ سعودیوں کو ایک بدتمیز قبیلہ سمجھتے تھے۔ اگرچہ سعودی عرب میں مکہ اور مدینہ ہیں اور یہ دونوں عثمانیوں کے ماتحت بھی رہے ہیں لیکن کوئی ترک سلطان کبھی حج پر نہیں گیا۔‘سعودی عرب کے موجودہ حکمران 84 سالہ شاہ سلمان اور 34 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، عبداللہ بن سعود کے ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جن کا آیا صوفیہ کے سامنے سر قلم کیا گیا تھا۔سعودی عرب اور ترکی دونوں ہی سنی مسلم ممالک ہیں لیکن دونوں کی تاریخ خوں ریزی سے بھری ہےسنہ 1932 سے پہلے دو مرتبہ سعودی عرب کو ایک ملک بنانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن دونوں مرتبہ سلطنت عثمانیہ نے اسے تباہ کر دیا۔پہلی بار سنہ 1818 میں اور دوسری بار 1871 میں اسے تباہ کیا گیا۔ سعودی عرب کی تیسری کوشش اس وقت کامیاب ہوئی جب انھوں نے پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ کی حمایت کی اور سلطنت عثمانیہ کو اس کا سامنا کرنا پڑا۔اب ایک بار پھر ترک صدر اردوغان سلطنتِ عثمانیہ کے ماضی کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی تازہ مثال آیا صوفیہ ہے۔سعودی عرب اور ترکی دونوں ہی سنی اکثریتی مسلم ممالک ہیں لیکن دونوں کی تاریخ بہت ہی خوں ریز ہے۔

1500 سالہ قدیم یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ آیا صوفیہ مسجد سے پہلے اصل میں چرچ تھا۔ جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال پاشا نے 1930 کی دہائی میں اسے ایک میوزیم بنایا تھا۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے گذشتہ سال اسے ایک مسجد بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ادب میں ترکی کے پہلے نوبل انعام یافتہ ارہان پاموک نے آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے بارے میں کہا تھا کہ ترکی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا ’میں ناراض ہوں مجھے اس بات پر بہت فخر تھا کہ ترکی واحد مسلمان ملک ہے جو سیکولر ہے لیکن اب یہاں سیکولر ازم ختم کیا جا رہا ہے۔ جدید ترکی کے بانی کمال اتا ترک نے آیا صوفیہ کو مسجد سے ایک میوزیم بنانے کا اہم فیصلہ کیا تھا۔ انھوں ایسا کر کے پوری دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ ہم سیکولر ہیں اور باقی مسلم ممالک سے الگ ہیں۔ ہم یورپی قوموں کی طرح ہیں اور ماڈرن ہیں لہذا ہمیں بھی قبول کریں۔‘پاموک نے کہا ’آیا صوفیہ کو مسجد بنانے کا فیصلہ ایک غلط اقدام ہے۔ اگر 10 فیصد قدامت پسند لوگوں کو چھوڑ دیں تو سیکولرازم تمام ترکوں کے لیے فخر کی بات ہے۔ یہاں تک کہ اردوغان کی پارٹی کے ووٹرز کے لیے بھی سیکولرازم فخر کی بات ہے۔‘ترکی میں استنبول کے جس میوزیم آیا صوفیہ کو حال ہی میں ملک کے صدر نے مسجد میں تبدیل کر دیا ہے اس کے ٹھیک سامنے سنہ 1818 میں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ بن سعود کا سر قلم کیا گیا تھادنیائے اسلام میں قیادت کی جنگصدر اردوغان نے کئی بار کہا ہے کہ ترکی واحد ملک ہے جو عالم اسلام کی قیادت کر سکتا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ جب اردوغان یہ کہتے ہیں تو ان کے ذہن میں سلطنت عثمانیہ کی میراث ہو گی۔سلطنت عثمانیہ جو سوویت یونین سے بڑی تھی۔

یہ 22 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی تھی۔ سلطنت عثمانیہ مصر، یونان، بلغاریہ، رومانیہ میسوڈونیا، ہنگری، فلسطین، اردن، لبنان، شام، عرب کے بیشتر علاقوں اور شمالی افریقہ کے بیشتر ساحلی علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔یہ سلطنت مسلم حکمرانوں کو اہمیت دیتی تھی۔ اردوغان کو لگتا ہے کہ عالم اسلام کی قیادت کرنا ترکی کا تاریخی حق ہے لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ اب وہ سلطنت عثمانیہ کے 22 ملین مربع کلومیٹر کے سلطان نہیں بلکہ ترکی کے صدر ہیں جو اب گھٹ کر سات لاکھ 83 ہزار مربع کلومیٹر میں سمٹ چکا ہے۔سلطنت عثمانیہ جو لگ بھگ سنہ 1299 میں قائم ہوئی تھی، پہلی جنگ عظیم کے ساتھ سنہ 1923 میں ختم ہوئی اور جدید ترکی بن گیا۔دوسری جانب سعودی عرب کو لگتا ہے کہ اسلامی مقدس مقامات مکہ اور مدینہ منورہ اس کے پاس ہیں جو ایوان سعود کے ماتحت ہیں اور ہر سال پوری دنیا سے 20 لاکھ سے زیادہ مسلمان وہاں آتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں صرف وہی عالم اسلام کی قیادت کر سکتا ہے۔تیسرا کھلاڑی ایران ہے جہاں شیعہ مسلمان ہیں۔ ایران یہ بھی جانتا ہے کہ وہ سنی اکثریتی اسلامی دنیا کی رہنمائی نہیں کر سکتا لیکن ایران کو یہ دیکھ کر بالکل برا نہیں لگتا کہ دو اہم علاقائی حریف ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب اور ترکی کے مابین تصادم پر مغربی ممالک کا ردِ عمل ایران کے لیے دلچسپ ہوتا ہے۔پروفیسر اے کے پاشا کا کہنا ہے کہ اگرچہ سعودی عرب سنہ 1932 میں برطانیہ کی مدد سے تیسری بار ایک ملک بننے میں کامیاب ہوا لیکن اس کی مشکلات ابھی بھی کم نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے ’عالم اسلام میں سعودی عرب اور ترکی کے درمیان قیادت کی جنگ جاری ہے لیکن سعودی عرب امریکہ کے دم پر یہ جنگ نہیں جیت سکتا۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں