267

بھارتی سپریم کورٹ میں اپنی نوعیت کا انوکھا کیس : اس مشہور مندر کے ایک خاص کمرے میں ایسا کیا ہے جسکی ملکیت ہر کوئی حاصل کرنا چاہتا ہے ؟ جانیے اس رپورٹ میں

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی سپریم کورٹ میں آج کل ایک عجیب و غریب کیس زیر سماعت ہے ۔ یہ کیس ایک پرانے مندر کا ہے جس کے ایک صدیوں سے بند کمرے میں بھاری مالیت کا سونا اور ہیرے جواہرات موجود ہونے کی افواہیں ہیں ، یاد رہے کہ اس مندر کے ایسے دیگر کمروں سے

اس سے پہلے بڑی مقدار میں نقدی ، سونا چاندی اور قیمتی پتھر نکل چکے ہیں ۔بھارتی ریاست کیرلا کے پدمنابھ سوامی مندر پر عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ تراونکور کے شاہی خاندان کو ہی اس کا ٹرسٹی برقرار رکھا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد یہ سوالات دوبارہ ہونے لگے ہیں کہ کیا مندر کے اُس آخری کمرے کا دروازہ اب کھولا جائے گا جس میں لاکھوں کروڑ کا خزانہ ہے؟یہ مندر ریاست کیرلا کے دارالحکومت ترووننتپورم میں ہے اور آزادی سے قبل یہ تراونکور کے بادشاہ کے زیر اختیار تھا۔انڈیا کی آزادی کے بعد جب تراونکور اور کوچن ریاستوں کو ملایا گیا، تو دونوں کے درمیان مندر سے متعلق ایک معاہدہ ہوا۔اس معاہدے کے تحت مندر کی دیکھ بحال کا اختیار تراونکور کے آخری شاہی حکمران کے پاس آیا، جن کا نام تھا چِتھیرا تیھرونل۔1991 میں ان کے انتقال کے بعد یہ مندر ان کے بھائی اُترادم ورما کی تحویل میں چلا گیا۔ 2007 میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مندر کا خزانہ ان کے شاہی خاندان کی جائیداد ہے۔ان کے اس دعوے کے خلاف عدالت میں کئی لوگوں نے درخواستیں دائر کیں۔ ایک ضلعی عدالت نے مندر کے کمروں کو کھولنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔لیکن پھر 2011 میں کیرلا ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو حکم جاری کیا کہ وہ اس مندر کے اختیارات کے لیے ایک ٹرسٹ بنائے۔اسی برس شاہی خاندان اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ پہنچا اور سپریم کورٹ نے اس فیصلے پر حکم امتناعی جاری کر دیا اور کہا کہ اس مندر کے کمروں میں جو کچھ ملتا ہے اس کی فہرست بنائی جائے۔تب اس مندر کے کمروں کو

کھولنے کا سلسلہ شروع ہوا۔اس مندر میں چھ کمرے ہیں، ’اے‘ سے لے کر ’ایف‘ تک۔ان میں سے ای اور ایف کو اکثر کھولا جاتا ہے، کیوں کہ مندر میں خاص موقعوں پر استعمال ہونے والے برتن وغیرہ ان کمروں میں رکھے جاتے ہیں۔سی اور ڈی کمروں میں سونے اور چاندی کے زیورات رکھے جاتے ہیں، جنہیں خاص مواقعوں پر استعمال بھی کیا جاتا ہے۔باقی بچے اے اور بی۔ جب اے کو کھولا گیا تو پتا چلا کہ اس میں تقریباً ایک لاکھ کروڑ کا خزانہ ہے۔ اسی والٹ میں ہندو مذہب کے بھگوان وشنو کا ساڑھے تین فٹ اونچی ایک سونے کی مورتی بھی ملی، جس پر قیمتی ہیرے جڑے ہوئے تھے۔ ایک اٹھارہ فٹ لمبی سونے کی چین بھی تھی۔ اس کے علاوہ بوریوں میں بھرے ہیرے، یاقوت اور قیمتی پتھر نکلے۔مندر کا ایک دروازہ جو آج تک نہیں کھولا گیا وہ ہے ‘والٹ بی’۔ کہا جاتا ہے کہ اس اکیلے کمرے میں باقی سبھی کمروں سے زیادہ خزانہ ہے۔ لیکن کتنا خزانہ ہے یہ کسی کو نہیں پتا کیوں کہ اسے کبھی کھولا نہیں جا سکا ہے۔تراونکور کا شاہی خاندار صدیوں سے اس مندر کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے کبھی بھی نہیں کھولا جانا چاہیے کیوں کہ ایسا کرنا ان کے عقیدے کے خلاف ہے۔اس مندر سے وابستہ مختلف قسم کے عقائد ہیں۔ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر آخری دروازے کو کھولا گیا تو کچھ بہت برا ہو جائے گا۔سپریم کورٹ نے بھی 2011 میں کہا تھا کہ فی الحال والٹ ’بی‘ کو نہ کھولا جائے۔اس وقت سپریم کورٹ نے ایک سابق سپریم کورٹ جج کے ایس پی رادھا کرشنن کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی بنائی تھی۔سینیئر وکیل گوپال سُبرامنیم کو عدالت کی مدد کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے عدالت میں 577 صفحوں کی ایک رپورٹ بھی پیش کی تھی، جس میں مندر کی انتظامیہ پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ان کے مشوروں پر عدالت نے 2014 میں سی اے جی یعنی کمپٹرولر اینڈ آڈٹ جنرل آف انڈیا کو مندر کے کھاتوں کا خصوصی آڈٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔اب ایک بار پھر اس مندر کا اختیار شاہی خاندان کے پاس آ گیا ہے۔(بشکریہ : بی بی سی )

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں