271

موت کو سامنے دیکھ کر انسانوں سے زیادہ رب کریم پر توکل ۔۔۔پائلٹ نے ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے تین بار” یااللہ“ کہا،طیارہ حادثے کی رپورٹ میں انکشاف ، پوری قوم کی آنکھیں نم

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور نے کراچی میں تباہ ہونے والے مسافر طیارے کی عبوری رپورٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کی ہے۔بدھ کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے ایوان میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ طیارہ حادثہ میں 97 افراد شہید ہوئے، اسی رات ایک

ٹیم تشکیل دی جو سینئر ترین افراد پر مشتمل بورڈ تھا ۔اسی رات یہ بورڈ کراچی پہنچا اور اس نے اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا۔ بدقسمتی سے یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ 72 سالوں میں 12 واقعات ہوئے ہیں۔ سابق تمام حادثات کی بروقت انکوائری ہوئی نہ رپورٹ سامنے آئی‘ نہ حقائق عوام تک پہنچے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طیارے میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں تھا تاہم پائلٹ اور کنٹرولر دونوں نے مروجہ طریقہ کار کو مدنظر نہیں رکھا۔انہوں نے کہا کہ وائس ریکارڈر سے ساری باتیں خصوصاً آخری آدھے گھنٹے کی پوری بات چیت سنی گئی۔کاک پٹ میں ساری گفتگو صرف کورونا کے حوالے سے تھی اور ان کا فوکس فلائٹ کی بجائے کورونا پر تھا۔جب کنٹرول ٹاور نے توجہ دلائی تو انہوں نے کہا میں مینج کچھ کر لوں گا اور دوبارہ نہ کورونا پر بات کرنا شروع ہوگئے کیونکہ ان کی فیملیز کورونا سے متاثر تھی۔پائلٹ اور کو پائلٹ ضرورت سے زیادہ پراعتماد تھے، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بد قسمت طیارہ فضائی پرواز کے لئے سو فیصد ٹھیک تھا۔ طیارے میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں تھا ۔۔ انہوں نے کہا کہ پائلٹ اور معاون دونوں طبی طور پر صحت مند تھے۔ پائلٹ نے کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی۔ رن وے پر لینڈ کرنے کے وقت جہاز کو 2500 فٹ کی اونچائی پر ہونا چاہیے تھا۔
رن وے سے دس ناٹیکل میل پر لینڈنگ گیئر کھولے گئے۔ لینڈنگ سے قبل جہاز کی اونچائی 7500 فٹ تھی۔ پائلٹ کی اس جانب توجہ مبذول کروائی گئی۔ جہاز کا انجن تین بار رن وے پر رگڑیں کھاتا ہے‘ اس کے بعد پائلٹ نے جہاز کو دوبارہ اٹھا لیا ۔ اس معاملے پر کوتاہی کنٹرول ٹاور کی بھی تھی۔ جہاز جب دوبارہ ٹیک آف کیا تو انجن میں خرابی پیدا ہوچکی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں وہ جہاز کے گرنے کے بعد ہوئیں۔ کنٹرولر نے تین مرتبہ پائلٹ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کے آپ کی اونچائی زیادہ ہے لینڈ نہ کریں اور چکر لگا کر آئیں تاہم پائلٹ نے ہدایات کو نظر انداز کیا۔پائلٹ نے آخر میں تین بار یااللہ، یااللہ، یااللہ کہا۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں