262

بریکنگ نیوز: چین نے ’’لداخ‘‘ پر قبضے کے بعد ’’ڈیم‘‘ کی تعمیر شروع کر دی، بھارت ایڑیاں رگڑ کر رونے لگا

لداخ (ویب ڈیسک) رپورٹ کے مطابق چین اور بھارت کے مابین لداخ میں کشیدگی جاری ہے، چین نے وادی گلوان مین بھارتی فوجیوں کو نہ صرف ہلاک کیا بلکہ انہیں گرفتار بھی کیا تھا جنہیں آج رہا کر دیا گیا۔ چین نے بھارتی علاقے پر قبضہ کیا اور کئی کلومیٹر تک بھارت کے اندر گھس گیا،

چین نے متعدد بار بھارت کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مگر بھارت خاموش رہا، جب بھارتی فوجیوں نے چین سے رات کے اندھیرے مین اپنا علاقہ چھڑانے کی کوشش کی تو چین نے پہلی بار وارننگ دی ، دوسری بار حملہ کر دیا جس سے بھارتی فوج کے کرنل سمیت 20 اہلکار ہلاک ہوئے اور درجنوں لاپتہ ہوئے۔ دونوں ممالک کے فوجوں کے درمیان لڑائی کے بعد مودی سرکار پر اپوزیشن اور عوام کی جانب سے شدید دباو ہے کہ فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لو تا ہم مودی نے آج کل جماعتی کانفرنس طلب کر رکھی ہے، دونوں ممالک میں عسکری سطح پر مذاکرات بھی ہوئے جس میں چین نے کہا کہ بھارت سرحدی کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والے فوجیوں کے خلاف کاروائی کرے، دونوں ممالک میں ابھی تک کشیدگی کم نہیں ہوئی اور لداخ میں چین کی ابھی تک ہزاروں کی تعداد میں فوج، بھاری جنگی سامان موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے لداخ میں گلوان ندی پر ڈیم بنانا شروع کر دیا ہے، بھارت نے 16 جون کو سیٹلائٹ سے تصویریں حاصل کی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چین نے گلوان ندی میں پانی روکا ہے اور کچھ تعمیراتی کام جاری ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز چینی وزارت خارجہ سے پریس کانفرنس کے دوران اس پر ایک سوال بھی کیا گیا جس پر چینی وزات خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مجھے اس بارے میں معلوم نہیں ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ لداخ میں جو کچھ ہوا اس کا ذمہ دار بھارت ہے، بھارتی فوج نے سرحدی خلاف ورزی کی جس پرچین نے جوابی کاروائی اور انہیں روکا،اسکی ذمہ داری چین پر نہین بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ چین نے گرفتار بھارتی فوجیوں کو رہا کر دیا ہے، بھارت کی عسکری قیادت کی جانب سے مذاکرات میں چینی فوج کی منتیں کرنے کے بعد اب چین نے بھارتی فوجیوں‌ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا، بھارت اگرچہ اس بات کی تردید کر رہا تھا کہ اسکا کوئی فوجی لاپتہ نہیں ہے لیکن اب چین کی جانب سے بھارتی فوجیوں کو رہا کئے جانے کے بعد بھارت کا ایک اور جھوٹ بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے بھارتی فوجیوں کی رہائی سے کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے ، تا ہم بھارت میں آج مودی کی زیر صدارت کل جماعتی کانفرنس آج شام ہو گی جس میں چینی حملے کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر غور کیا جائے گا، مودی کی صدارت میں آج مختلف پارٹیوں کے صدور کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ چین اور بھارت کے مابین لداخ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، بھارت نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ بھارت کے 20 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں تا ہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارت کے 40 سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو درجن سے زائد لاپتہ ہیں ،کچھ کو چینی فوج نے گرفتار کر رکھا ہے جن میں ایک میجر بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ چین اور بھارت کے مابین سرحدی تصادم جو 5 مئی کو لداخ میں وادی گلوان اور اس کے بعد شمال مشرقی سکم کے علاقے نکولہ میں شروع ہوا تھا اس کے تین دن بعد بھارت اور چین میں شدید تلخی آئی تھی چین نے لداخ میں بھارتی علاقے میں گھس کر بھارتی فوج کر گرفتار کر لیا تھا جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں