268

ایسی ہوتی ہیں انقلاب بھرپا کر دینے والی قومیں ۔۔۔!!! نیوزی لینڈ کورونا کو شکست دینے میں کیسے کامیاب ہوا؟ جان کر آپ بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ پائیں گے

لاہور(ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ نے پوری دنیا میں تباہی مچانے والے مہلک کورونا وائرس کو شکست دے دی ہے۔وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے ٹی وی پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پراعتماد ہیں کہ ہم نے نیوزی لینڈ میں وائرس کی منتقلی کے عمل کو ختم کردیا ہے اور کیویز وائرس کو کچلنے کے

لیے غیرمعمولی انداز میں متحد ہو گئے تھے۔50لاکھ آبادی کے حامل ملک نیوزی لینڈ میں ایک ہزار 154 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہسپتال سے فارغ کیے گئے آخری مریض کی تفصیلات پرائیویسی کی وجہ سے جاری نہیں کی گئیں لیکن یہ مانا جا رہا ہے کہ وہ ایک خاتون تھیں جن کی عمر 50 سال کے لگ بھگ تھی۔ اس موقع پر وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اپنے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کورونا سے پہنچنے والے نقصان کی تلافی اور معاشی بحال کا عزم کیا۔انہوں نے کہا کہ فی الحال ہم نے کورونا کو ختم کردیا ہے لیکن یہ کام ابھی مکمل نہیں ہوا بلکہ یہ ایک سنگ میل ہے۔نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم اس مشکل صورتحال میں دنیا بھر کے لیے مثال بن چکی ہیں،لیکن ایسے کیا اقدامات ہیں جو اٹھانے نے نیوزی لینڈ اس وائرس کو ختم کرنے میں کامیاب ہوا جس کی وجہ روزانہ ہزاروں اموات ہو رہی ہیں۔نیوزی لینڈ میں پہلا کورونا وائرس کیس 28 فروری کو سامنے آیا تھا اور اسی دن ملک میں وائرس کی روک تھام کے لئے ایران اور چین کے سفری پابندیوں کا اعلان کیا گیا تھا۔جسینڈا آرڈرن نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے ابتدائی طور پر 23 مارچ کو جزوی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔لیکن دو دن بعد جب ملک میں 200 کورونا کیسز کی تصدیق ہوئی تو حکومت نے پورے ملک میں لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کر دیا۔یہ وہ دوسرا اقدام تھا جس وجہ سے کورونا پر قابو پانے میں مدد ملی،کیونکہ اکثر ممالک

میں ہزاروں کیسز رپورٹ ہونے کے باوجود بھی لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا،اگر کیا بھی گیا تو لوگوں کی جانب سے احتیاطی تدابیرپر عمل نہیں کیا گیا،نیوزی لینڈ کے کیے گئے سخت لاک ڈاؤن میں وباء پر قابو پانے کے لئے سخت پابندیاں اور محدود نقل و حرکت اور آپس میں بھی محدود رابطہ شامل تھا۔27اپریل کو صورتحال کو دیکھتے ہوئے سخت پابندیوں کو کم کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی چند احتیاطی تدابیر کے ساتھ دوبارہ کاروبار شروع کیا گیا،تاہم لوگوں کے گھروں میں رہنے کی پابندیاں برقرا رہیں۔13 مئی کو ملک میں پابندیوں میں مزید نرمی کی گئی اور کاروباری اداروں ، کیفوں اور ریستورانوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی۔علاوہ ازیں سماجی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے جنازے اور شادیوں کی بھی اجازت دی گئی۔سکولوں کو بھی دوبارہ کام کرنے کی اجازت دی گئی۔8 جون کو وزارت صحت نے اعلان کیا کہ ملک میں کورونا کا آخری مریض بھی صحتیاب ہو گیا ہے اور 17 روز سے کوئی نیا کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ 28 فروری کے بعد پہلی مرتبہ کسی فعال کیس کا نہ ہونا ہمارے کامیابی کی علامت ہے۔ایک نیوز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم جسینڈا آرڈن نے منگل سے معمول کی زندگی بحال ہونے اور کورونا وائرس کی پابندیوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا کیونکہ ملک میں کورونا کا کوئی نیا کیس نہیں تھا۔وزیراعظم کے اعلان کے بعد پورے ملک میں جشن کا سماں تھا جب کہ آج ملک بھر میں 75 روز کے سخت لاک ڈاؤن کے بعد پرانی رونقیں لوٹ آئی ہیں جو کہ نیوزی لینڈ کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔کورونا کیسز نہ ہونے کے باجود بھی فیصلہ کیا گیا کہ نیوزی لینڈ کی سرحدیں بند رہیں گی تاکہ مستقبل میں بھی مزید کورونا کیسز سے بچا جا سکے۔ملک پہنچنے والے لوگوں کو اب بھی دو ہفتوں کے لئے قرنطینہ جانا پڑے گا اور اس عرصے میں دو بار ٹیسٹ کیا جائے گا۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں