291

چمن(ویب ڈیسک)چمن بارڈر کے قرنطینہ کیمپ سے دو سو افراد بغیر ٹیسٹ کرائے فرار ہوگئے۔ افغانستان سے آئے مسافر بیمار خاتون کوہسپتال لے جانا چاہتے تھے۔ انتظامیہ نے جانے سے منع کیا تو گیٹ توڑ کر بھاگ نکلے۔چمن بارڈر پر قرنطینہ کیمپ میں مقیم دو سو افراد گیٹ توڑ کر فرار ہوگئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق

افغانستان سے آنے والے مسافر بیمار خاتون کو علاج کے لیے اسپتال لے جانا چاہتے تھے۔ قرنطینہ کے سٹاف نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس پر لوگ مشتعل ہوگئے اور گیٹ توڑ کر بھاگ نکلے۔ فرار ہونے والوں میں خواتین بزرگ اور بچے بھی شامل ہیں۔فرار ہونے والے افراد کو ہفتے کے روز چمن بارڈر کے قرنطینہ کیمپ منتقل کیا گیا تھا اور ان کے کرونا ٹیسٹ کرانے کے لیے نمونے بھی حاصل نہیں کیے گئے تھے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے عوام کو کورونا سے بچاؤ کیلئے ماسک پہننے کی ہدایت کردی، پاکستان کا ہر شہری ماسک لازمی پہنے، ماسک پہننے سے وائرس کا پھیلاؤ50 فیصد کم ہوجاتا ہے، ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو کیسز تیزی سے بڑھیں گے، رواں ماہ تمام ہسپتالوں میں ایک ہزار آکسیجن بیڈز پہنچا دیں گے۔انہوں نے کورونا وائرس کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج احتیاط نہ کی تو بڑا مشکل وقت آنے والا ہے، لاک ڈاؤن کا مطلب یہ نہیں کورونا وائرس ختم ہوجائے گا، لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آجاتی ہے۔ ہم نے لاک ڈاؤن کیا، لاک ڈاؤ ن میں دیہاڑی دار مزدور وں سب کو پتا ہے کہ مشکل وقت سے گزرے ہیں۔ہم نے ایک بڑا امدادی پیکج تقسیم کیا۔اسی لیے زیادہ مسائل نہیں آئے۔ دنیا کے امیر ترین ممالک نے لاک ڈاؤن کھول دیا ہے، کیونکہ لاک ڈاؤن کے منفی اثرات آتے ہیں۔ جہاں ایک لاکھ لوگ کورونا سے مرگئے ہیں ان لوگوں نے بھی ایس اوپیز کے تحت لاک ڈاؤن کھول دیا ہے۔ایس اوپیز سے وائرس کا پھیلاؤ بہت آہستہ ہوگا۔ ہمیں پتا ہے دنیا میں ٹرینڈ ہے کہ کورونا پھیلتا ہے، پیک پر جاکر پھر واپس نیچے آتی ہے۔پاکستان میں ہم کوشش کررہے ہیں کہ ایس اوپیز پر عمل کیا جائے تاکہ وائرس کم پھیلے اور ہسپتالوں پر زیادہ پریشر نہ پڑے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج ہم نے سارے اعدادوشمار کا جائزہ لیا ہے، ہمارے خیال میں پاکستان میں کورونا وائرس کی پیک جولائی کے آخر یا اگست کے شروع میں آئے گی، جس کے بعدوائرس کی شدت کم ہونا شروع ہوجائے گی۔ قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے بزرگوں کیلئے احتیاط کریں۔بزرگوں کیلئے خطرہ ہے، جن کو شوگر ہے، ان کیلئے خطرہ ہے۔ عام لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے، کیونکہ وہ اس کو ایک فلو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے ماسک پہننا ضروری ہے، ماسک پہننے سے وباء 50 فیصد کم پھیلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں ملک بھر میں رواں ماہ ایک ہزارآکسیجن بیڈز ہسپتالوں میں پہنچا دیں گے۔’’پاک نگہبان ایپ‘‘ لاؤنچ کی ہے جس سے ملک میں دستیاب بیڈز کا پتا لگے گا۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان کے تمام شہری ایس اوپیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے ، اور وائرس کا پھیلا روکنے کیلئے احتیاط کریں گے۔ اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو ہمارے اوپربھی امریکا اور یورپ کی طرح برا وقت آسکتا ہے۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں