280

بات بالآخر وہی نکلی ۔۔۔!!! کورونا وائرس کی ابتداء ووہان سے نہیں بلکہ کہاں سے ہوئی ؟چینی حکام مکمل ثبوتوں کے ساتھ میدان میں، بڑ ادعویٰ کر دیا گیا

لاہور( ویب ڈیسک) چین نے ایسا نہیں کہا کہ ووہان کی منڈی سے کورونا واائرس کی وبا نہیں اُٹھی، لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ مارکیٹ کورونا تیزی سے پھیلنے کا سبب بنی ہو۔ شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ کورونا وائرس کی ابتداء چمگادڑوں سے ہوئی ہے۔ دوسری جانب اس بات کا کوئی ثبوت موجود

نہیں ہے کہ وائرس چمگادڑ سے انسان میں کیسے منتقل ہوا۔ماہرین کا خیال تھا کہ کورونا وائرس ووہان کی منڈی سے پھیلا جو کہ 116 ایکڑ رقبے پر محیط ہے ، تاہم یہاں پر موجود جانوروں کا جائزہ لینے کے بعد اس خدشے کو رد کر دیا گیا تھا ۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہاں پر کورونا وائرس تیزی کے ساتھ پھیلا ہو۔ جینیاتی شواہد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وائرس کی ابتدا چینی چمگادڑوں میں انسانوں کی طرف اچھلنے سے پہلے ہی ہوئی تھی ، لیکن اس منتقلی کی صحیح جگہ معلوم نہیں ہے۔در اصل چینی حکام کا کہنا تھا کہ وائرس کا پہلا کیس مقامی سمندری غذا کی منڈی میں سامنے آیا تھا ، لیکن جانوروں کی فروخت کی ایک نئی تحقیقات نے اس کو مسترد کردیا۔ بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کیلئے چین کی جانب سے بازار میں جانوروں کے نمونے لئے اور معلوم کیا کہ ان میں سے کسی میں کورون وائرس نہیں تھا۔ واضح رہے دنیا بھر میں 25 لاکھ 40ہزار977 افراد نے کورونا وائرس کو شکست دے دی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق اب تک دنیا میں 58لاکھ60ہزار133افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے 3لاکھ60ہزار46 مریض جان کی بازی ہارگئے ہیں جبکہ 25 لاکھ 40ہزار977 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جس کے بعد دنیا میں کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 29لاکھ59ہزار110رہ گئی ہے جن میں سے 52ہزار879مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ امریکا تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں نہ صرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی اب تک دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔ امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 1 لاکھ 2 ہزار 867 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 17 لاکھ 58 ہزار 803 ہو چکی ہے۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں