284

رویت باری تعالیٰ ہے کہ بشر میں دیدارِ باری تعالیٰ کی طاقت نہیں تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو کبھی اصلی حالت میں دیکھا؟ ایمان افروز تحریر

علامہ محمد ولید الاعظمی العراقی اس کے متعلق آپ کو بظاہر موافق ومخالف اقوام ملیں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ رویتِ باری تعالیٰ کا مسئلہ ہی ایسا ہے کہ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کا واقعہ ہی اس نوعیت کا ہے کہ جس کی لطافت ونزاکت

بارِ الفاظ کی متحمل نہیں ۔اس مسئلہ میں جمورعلماء ومتکلمین کا مسلک یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچشمِ سر،بغیر حجاب اپنے رب کو دیکھا مگر کیسے دیکھا؟یہ کیسے کا معاملہ دیکھنے اور دکھانے والا ہی بتا سکتا ہے ۔بعض اہل ارشارات نے فرمایا کہ گویا اس مقامِ قرب میں اللہ عزوجل نے فرمایا:”اے محبوب! (صلی اللہ علیہ وسلم )میں نے تیری آنکھوں میں وہ نور بھر اہے کہ تو ان سے میرا جمال دیکھے اور وہ کان دئیے ہیں جن سے میری بات سنے ۔ “قرآنِ مجید میں ہے :”بیشک خدا کا ادراک نہیں ہوسکتا ۔“ادراکِ بصری روایت سے اخص ہے اور خاص کی نفی عام کو متلزم نہیں ہوتی ۔لہٰذا اس آیتِ کریمہ سے رویت کی نفی ثابت کرنا صحیح نہیں ہے ۔اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرمان کا بھی یہی مطلب ہے کہ خدا کا ادراک نہیں ہو سکتا اور کوئی اللہ عزوجل کا احاطہ نہیں کر سکتا ۔علامہ قاضی عیاض اُندلسی رحمتہ اللہ تعالیٰ کتابُ الشفاء میں لکھتے ہیں :’محدثین ،فقہاومتکلمین نے اس پر اجماع کیا ہے کہ دُنیا میں رویتِ باری تعالیٰ محال ہے ۔ “اس ارشا د کا مطلب بھی یہی ہے کہ دُنیا میں رویتِ باری تعالیٰ اس لیے بھی ممتنع ہے کہ بشر غایتِ نقصان کی وجہ سے دیکھ نہیں سکتا ۔علامہ بیضاوی رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دُنیا میں رویتِ باری تعالیٰ محال نہیں ہے ۔اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ محال یاناجائز ہوتی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کبھی محال بات کی استد عانہ کرتے ۔حالانکہ انہوں نے بارگاہ خدا میں ”اے میرے رب میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں ۔ “عرض کیا اور انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام کبھی محال طلب نہیں کر سکتے ۔البتہ یہ کہتے کہ اس دنیا میں رویت باری تعالیٰ بایں معنیٰ ہے کہ بشر میں دیدارِ باری تعالیٰ کی طاقت نہیں ۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ باقی ہے (اور انسان فانی ودیگر مخلوقات فانی )لہٰذا فانی باقی کو نہیں دیکھ سکتا یا دُنیا میں باقی دیکھا نہیں جا سکتا ۔ “اس قول کو نقل کرتے ہوئے علامہ قسطلانی فرماتے ہیں :”اللہ تعالیٰ جل جلالہ کو دنیا میں نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ وہ باقی ہے اور ہم فانی اور فانی باقی کو نہیں دیکھ سکتا ۔لیکن آخرت میں چونکہ ابصارِ باقیہ غیر فانیہ عطاہوں گی تو انسان باقی آنکھوں سے باقی (اللہ تعالیٰ)کو دیکھے گا۔“

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں