280

شاید یہ آخری عید ہو۔۔!! لاک ڈاؤن کھولنے کے بعد عوا م کو ایک اور پیغام دے دیا گیا، حیرت انگیز صورتحال پیدا ہوگئی

لاہور(نیوز ڈیسک ) حکومت کے لاک ڈاؤن ختم کرنے کے اعلان کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے بازاروں میں رش کر دیا تھا۔ اسی صورتحال پر ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ نگار ایاز میر کا کہنا تھا کہ اس قدر رش سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہآخری عید ہو۔ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو بیماری پر توجہ دینی چاہیئے لیکن وہ کاروبار پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔پروگرام میں میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایاز میر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو بیماری کی طرف زیادہ توجہ دینی تھی وہ تو کاروبار کھولنے پر زور دیتے رہے، عمران خان ملتے تو سیٹھوں سے ہیں، بات غریبوں کی بھوک کی کرتے ہیں، سیٹھوں کے کاروبار کھولنے سے کون سا غریبوں کو روزگار مل گیا ؟ حکومت کا پیغام موثر ہوتا تو یہ ہڑبونگ نہ مچتی۔خیال رہے کہ لوگوں کے رش کو دیکھتے ہوئے تاجروں نے بھی حکومت سے مارکیٹیں مقررہ وقت میں کھولنے کے بجائے 24 گھنٹے کھولنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔تاجر رہنماؤں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہیں زیادہ وقت کے لئے کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے، جس طرح لوگوں کی بڑی تعداد نے بازاروں کا رخ کیا ہے، اس سے کاروبار بحال ہونے کی بجائے بند ہونے کے خطرات زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ رواں ہفتے میں جیسے ہی بازار کھولے گئے، لوگوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر آ گئی تھی جس کے بعد تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ اگر عوام نے اس طرح باہر آنا ہے تو کورونا وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔ حکومت کےا سی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے تجزیہ نگار ایاز میر کا کہنا تھا کہ رش سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ آخری عید ہو۔ عمران خان کو بیماری پر توجہ دینی چاہیئے لیکن وہ کاروبار پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

Source : HassanNissar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں