303

یا اللہ رحم ۔۔۔!!!لاہور میں کتنے سو بچے کرونا وائرس کا شکار ہوگئے؟ اعدادوشمار منظر عام پر آتے ہی پورے پنجاب میں خوف کی لہر دوڑ گئی

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور میں 100 بچے بھی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے، چلڈرن ہسپتال کے آئیسولیشن وارڈ میں رکھ کر بچوں کا علاج جاری ہے۔لاک ڈائون کھلتے ہی بچوں کو باہر آنے اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی وجہ سے لاہور کے مختلف ہسپتال جن میں شیخ زید، جناح ہسپتال اور جناح ہسپتال کے بچہ وارڈ میں روزانہ دس سے پندرہ بچوں میں کرونا

کا وائرس دریافت ہو رہا ہے، بچوں کو فوری طور پر چلڈرن ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جہاں بچوں کے لئے آئیسولیشن وارڈ بنائے گئے ہیں، بچوں کے لواحقین کو بچوں کے قریب نہ رکھنے کی وجہ سے والدین شدید تکلیف میں مبتلا ہیں اور ابھی تک بچوں کے علاج معالجے کے حوالے سے والدین کو کوئی معلومات بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہے، چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹرز کے مطابق بچے نارمل حالت میں ہیں اور جلد ہی صحت یاب ہو کر گھر چلے جائیں گے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے علاج کو تلاش کرنے کا کام ہورہا ہے اور اس حوالے سے جاپان کی 2 ادویات کو اہم سمجھا جارہا ہے. انفلوائنزا(وبائی زکام) کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا فیویپیراویر (favipiravir) اور 35 سال سے لبلبے کی سوزش کے عارضے کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا کیموسٹیٹ کو اس حوالے سے اہم مانا جارہاہے، جن میں جاپان اور مختلف ممالک کے سائنسدانوں کی جانب سے دلچسپی دکھائی جارہی ہے.اس وقت گیلاڈ سائنس کی تیار کردہ ریمیڈیسیور مختلف تحقیقی رپورٹس میں اس وائرس کے علاج کے لیے موثر دریافت ہوئی ہے، جس کے بعد امریکا اور جاپان میں اس کے ایمرجنسی استعمال کی منظوری دی جاچکی ہے اگرچہ اس دوا کے استعمال سے ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں کی جلد میں مدد ملتی ہے مگر مزید علاج کے طریقہ کار کے آپشنز کی تلاش جاری ہے. فیوجی فلم کی ٹواما کیمیکل کمپنی کی تیار کردہ دوا فیویپیراویر کے حوالے سے سائنسدانوں کی دلچسپی اس وقت بڑھی جب مارچ میں چین میں ایک تحقیق کے نتائج سامنے آئے چین میں اس دوا کی آزمائش فروری میں شروع ہوئی تھی اور 15 مارچ کو اس کے کلینیکل ٹرائل کی منظوری دے دی گئی تھی اور حکام کا کہنا تھا کہ اب تک مریضوں پر اس کے اثرات بہت زیادہ حوصلہ افزا رہے.فروری میں شینزن میں ہونے والی تحقیق کے دوران کووڈ 19 کے 320 مریضوں کو اس دوا کا استعمال کرایا گیا اور محققین نے دریافت کیا کہ اس کے نتیجے میں اوسطاً 4 دن میں وائرس کلیئر ہوگیا جبکہ دیگر ادویات کے استعمال سے یہ او سط 11 دن رہی اس دوا کو استعمال کرنے والے 91 فیصد سے زائد مریضوں کے پھیپھڑوں کی حالت میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی جو دوسرے گروپ میں 63 فیصد رہی.محققین کا کہنا تھا کہ ان اعدادوشمار سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دوا وائرس کی صفائی تیزی سے کرتی ہے، بہت کم مضر اثرات اب تک دریافت ہوئے ہیں گزشتہ مہینے روس میں اس دوا کو کووڈ کے علاج کے لیے آزمانے کا عمل شروع ہوا تھا اور اب ابتدائی نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا گیا ہے. 13 مئی کو رشین ڈائریکٹ انوسٹمینٹ فنڈ (آر ڈی آئی ایف) نے بتایا کہ اس دوا کے ابتدائی کلینیکل ٹرائلز کے نتائج بہترین رہے ہیں آر ڈی آئی ایف کے سربراہ کرل دیمیترف نے کہا کہ ٹرائل کے دوران کورونا وائرس کے 40 میں سے 60 فیصد مریضوں کو اس دوا کا استعمال کرایا گیا اور وہ 5 دن میں صحت یاب ہوگئے، یعنی دیگر طریقہ علاج کے مقابلے میں اس دوا سے ریکوری کا وقت 50 فیصد کم ہوگیا.

Source : HassanNissar

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں